Blog

Keep up to date with the latest news

انسان کو ہر حالت میں اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے

                                 انسان کو ہر حالت میں اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے

 


اگر آپ کا کھیلوں کی دنیا سے تعلق ہے تو آپ ایک ٹینس پلیئر آرتھر ایش کو جانتے ہوں گے۔ آرتھر ایش ایک امریکن ٹینس پلیئر تھا۔ اس کا رنگ کالا تھا اس لیے یہ بلیک امریکن ٹینس پلیئر تھا۔ یہ امریکہ کی ایک ریاست ورجینیا میں پیدا ہوا یہاں اتھلیٹس  بننا چاہتا تھا لیکن اس کو پیدائشی طور پر کمزوری تھی اس لیے یہ اتھلیٹس نہیں بن سکا۔ 



چھ سال کی عمر میں اس کی والدہ انتقال کر گئیں اور یہ بالکل اکیلا ہو گیا اس نے سوچا کہ یہ وہ کرکے دکھائے گا جو کسی نے آج تک نہ کیا ہو۔ اس نے ٹینس کورٹ میں اتر کر وہ کمال کر دکھایا جو پوری دنیا نے دیکھا۔ انیس سو تریسٹھ میں اس کو امریکہ نے اپنی ملکی ٹیم میں شامل کر لیا۔ یہ اس کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی کیونکہ یہ پہلا امریکن کالا ٹینس پلیئر تھا جو امریکہ کے لئے کھیل رہا تھا۔ 

اس نے ٹینس کی دنیا میں اپنا نام بنایا اور اب ایک نیشنل ہیرو بن چکا تھا۔ اس میں زندگی کے تمام چیلنج کو حاصل کر لیا تھا لیکن اس کے بعد اس کی زندگی میں ایک نیا چیلنج آنے والا تھا۔ 

ایک دفعہ ساؤتھ امریکہ میں ٹینس ٹورنامنٹ ہونے والا تھا اس نے ویزے کے لیے اپلائی کیا تو اس کا ویزا کینسل کر دیا گیا کیونکہ اس کا رنگ کالا تھا اور ساؤتھ امریکہ بلیک بندے کو ویزہ نہیں دیتے تھے یہ اس کی زندگی کا دوسرا بڑا چیلنج تھا اس نے ٹینس کو ایک سائیڈ پر رکھ دیا اور ٹینس چھوڑ چھاڑ کر امریکہ میں بلیک امریکنس کے لیے احتجاج کرنا شروع کر دیا ان کے حق میں بولنا شروع کر دیا یہ ایک نیشنل ہیرو تھا تو پوری میڈیا اس کے ساتھ تھی اور جو کھلاڑی اس کو پسند کرتے تھے وہ اس کی ٹیم میں شامل ہوگئے۔ وقت گزرتا گیا اور اس کی تحریک نے زور پکڑنا شروع کر دیا آخر کار حکومت کو اس کی بات ماننا پڑی اور اس کے مطالبات تسلیم کر لیے۔ 

اس نے یہ بھی چیلنج پورا کرلیا ٹینس چھوڑے ہوئے اس کو کافی عرصہ ہوگیا تھا تو کسی نے اس سے کہا کہ اب تم وہ کمال نہیں کر سکتے جو تم نے کیا تھا اور جو تم اتنے اعزاز حاصل کرتے تھے اب ٹینس تم نہیں کھیل سکتے جاؤ کوئی اور کام کرلو۔ بیس سال بعد یہ بندہ دوبارہ ٹینس کی دنیا میں داخل ہوا اور سب سے بڑا ڈینسومبلڈن کا کب اس بندے نے جیت لیا۔ 

لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور ایک دن یہ بیمار ہو گیا اور اس کو ہسپتال لے جایا گیا اس کے تمام ٹیسٹ کیے گئے تو پتہ چلا کے اس کو خون کی کمی ہے لہٰذا اس کو خون لگایا گیا۔ جو اس کو خون دیا گیا اس میں ایڈز کے جراثیم موجود تھے اور اس کو ایڈز کی بیماری نے گھیر لیا۔ 

جب یہ ہسپتال سے گھر آیا تو وہ ایک مکمل ایڈز کا مریض بن چکا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حالت اور بگڑتی چلی گئی لہٰذا اس کو دوبارہ ہسپتال شفٹ کر دیا گیا۔ اس کے چاہنے والے لاکھوں کروڑوں لوگ جو تھے جو اس کو خط لکھتے تھے۔ اس کے ایک چاہنے والے نے خط میں لکھا کہ سر آپ ایک بہت بڑے ڈینس کے پلیر ہیں پھر آپ ہی کو کیوں یہ بیماری لاحق ہوئی دنیا میں بہت سارے ایسے انسان ہیں جن کو یہ بیماری لاحق ہو سکتی تھی۔ 

اس بار اس نے اپنا کاغذ اور قلم اُٹھایا اور اس نے لکھا پوری دنیا میں ہر سال  کرو ڑ بچہ ٹینس کھیلنے کا ارادہ کرتا ہے، اور ان کروڑ بچوں میں سے سے پچاس لاکھ بچا ٹینس کی کورٹ میں داخل ہوتا ہے، ان پچاس لاکھ بچوں میں سے صرف پانچ لاکھ ہی ایسے ہوتے ہیں جو ٹینس سیکھ پاتے ہیں، اور ان پانچ لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ ایسے ہوتے ہیں جو کہ ٹینس کے مکمل پلیئر بنتے ہیں، اور ان ایک لاکھ میں سے صرف صرف 5000 ہیں ایسے ہوتے ہیں جو ملکی لیول پر کھیلتے ہیں، اور ان پانچ ہزار میں سے صرف سو ایسے ہوتے ہیں جو گرانڈ سلام کھیلتے، اور ان پچاس میں سے صرف چار ایسے ہوتے ہیں جو میچ کھیلتے ہیں، اور ان چار میں سے دو فائنل کھیلتے ہیں، اور آخر میں صرف ایک یہ اعزاز جیت جاتا ہے۔ تو ان کروڑوں میں سے میں صرف واحد بنا ہو اس نے یہ ومبلڈن جیتا ہے، تو میں کیوں کہوں کہ صرف میں ہی کیوں جو یہ اعزاز اور بھی جیت  سکتا تھا دنیا میں ایسے اور بہت سارے ٹینس پلیئر ہیں جو یہ اعزاز جیت سکتے تھے۔ 

پھر اس نے آخر پر سونے کے اوپر لکھے جانے والے الفاظ کہے۔ 

میں جب بھی کوئی میچ جیت کر نیا اعزاز حاصل کرتا تو اس پر اپنا حق سمجھتا کہ یہ اعزاز صرف میرا ہے کیونکہ میں نے ہی جیتا ہے اور میں نے کبھی خدا کا شکر ادا نہیں کیا۔ پر جب مجھ پر مصیبت آ گئی ہے اور مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے یا میں بیمار ہوں یا میں مرنے والا ہو تو میں کیوں خدا سے گلہ کرو کہ میں ہی کیوں۔ جب ہم اپنی خوشی پر اپنے خدا سے شکر ادا نہیں کرتے کہ میں ہی کیوں تو ہمیں اپنے غم میں اپنے خدا اور اللہ تعالی سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں ہی کیوں۔ 

اگر ہم خوشی میں اپنے اللہ تعالی سے شکر گزار نہیں ہوں گے تو ہم اپنے غم پر بھی اپنے خدا پاک سے اس کا گلہ نہیں کر سکتے۔ 


ہر حالت میں اپنے رب کا شکر ادا کرو۔ 


ہمیں ہر وقت اپنے خدا پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے انسان صرف روٹی کے لیے جیتا ہے ہے اگر انسان کے پا کروڑوں کے حساب سے پیسے ہو تو انسان وہ پیسےنہیں کھا سکتا وہ اس سے دس روپے کی روٹی لے کر اپنی بھوک مٹا سکتا ہے ۔ زیادہ دولت اور پیسے کے پیچھے بھاگنے کی وجہ سے صرف اپنے رب کا شکر ادا کریں کہ وہ ہی ہے جو آپ کو رزق عطا کرتا ہے۔ اور آپ ہی کیوں کی جانیں آپ کے پاس جو چیزیں موجود ہیں وہ دیکھیں کہ کسی اور کے پاس وہ چیزیں موجود نہیں اس لئے صرف آپ ہی کو چنا گیا ہے اس چیز کے لئے جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔ لہذا آپ  ہر حالت میں شکر ادا کریں اور خوش رہنے کی کوشش کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *