Blog

Keep up to date with the latest news

محبت نے اس کو برصغیر کا بادشاہ بنا دیا

                                           محبت نے اس کو برصغیر کا بادشاہ بنا دیا۔




مغل بادشاہ جہانگیر کے پانچ بیٹے تھے، خسرو مرزا ، جہاندار مرزا، پرویز مرزا، شاہجہاں مرزا، اور شہریار مرزا۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں بیگم نور جہاں اور مغل بادشاہ جہانگیر کی شادی محبت کے اوپر ہوئی۔ جہانگیر ر اپنی بیگم پر جان چھڑکتا تھا۔ نورجہان نے جہانگیر سے دوسری شادی کر رکھی تھی۔ نورجہان کا ایک بیٹا جس کا نام شہریار مرزا تھا اس کو وہ بادشاہ بنانا چاہتی تھی۔ لکھنے والے مورخ لکھتے ہیں مغل بادشاہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ایک جام، ایک کٹوری گوشت اور نورجہاں کا 
ایک دیدار میرے لیے کافی ہے۔ 



شہنشاہ جہانگیر مکمل طور پر اپنی بیگم نورجہان کے زیر اثر تھا۔ ملکہ نور جہاں شہریار مرزا کو اگلا بادشاہ بنانا چاہتی تھی لیکن بادشاہ جہانگیر شاہجہاں کو اگلا بادشاہ بنانا چاہتا تھا۔ اس بات پر بادشاہ اور ملکہ میں رساکشی شروع ہوگی۔ نور جہاں جہانگیر کو کہتی اور جہانگیر آگے سے ٹال دیتا۔ یہ کام کچھ دن جاری رہا اور ایک دن نورجہاں نے فیصلہ کر لیا کہ آج تو  فیصلہ ہو کر ہی رہے گا۔ نورجہان ایک دفعہ بادشاہ جہانگیر سے اگلے شہنشاہ کے بارے میں بات کی۔ اور کہا کہ میں شہریار مرزا کو اگلا بادشاہ بنانا چاہتی ہوں۔ جب کہ بادشاہ پورا اپنی بیگم کے زیر اثر ہونے کے باوجود نے کہا کہ میں شاہجہاں مرزا کو اگلا بادشاہ بنانا چاہتا ہوں۔ 
لیکن دونوں کے درمیان بات کافی دن چلتی رہی۔ آخر ایک دن بادشاہ جہانگیر نے کہا کہ ہم دونوں شہزادوں پر اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں کہ اگلا بادشاہ کون بنے گا؟ 
میں دونوں شہزادوں کو بلاتا ہوں اور ان سے ایک ایک سوال کرتا ہوں جس کا جواب ٹھیک ہوا ہم اس کو ہندوستان کا اگلا بادشاہ نامزد کر دیں گے۔ نورجہاں مان گی۔ بادشاہ نے دونوں شہزادوں کو بلا بھیجا۔ دونوں شہزادے ہاتھ باندھ کر بادشاہ کے آگے کھڑے ہو گئے۔ بادشاہ نے دونوں سے صرف ایک ہی سوال کیا۔ 
بادشاہ نے کہا کہ اگر آپ کو ہندوستان کا اگلا شہنشاہ بنا دیا جائے تو آپ اس ملک کی کس طرح خدمت کریں گے؟ 
دونوں شہزادوں کو سوچنے کے لیے ایک ایک منٹ کا وقت دیا گیا۔ جب ایک منٹ کا وقت پورا ہوا تو شہزادہ شہریار مرزا نے کہا کہ اگر مجھ کو اپنے ہندوستان کا بادشاہ بنا دیا جائے تو میں ہندوستان کی خدمت ایک ماں کی طرح کروں گا۔ بادشاہ جہانگیر یہ جواب سن کر کافی حیران ہوا اور کہا کہ ایک ماں کی طرح ہی کیوں ایک بیٹے یا ایک باپ کی طرح کیوں نہیں؟ 
جس پر پر شہریار مرزا نے جواب دیا کہ ایک ماں اپنے بیٹے کو جنم دیتی ہے، اور اس کی کی پرورش کرتی ہے، اور اس کی حفاظت کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیتی ہے۔ لہذا میں اپنے ملک کی خدمت ایک ماں کی طرح کروں گا۔ 
شہزادہ کا یہ جواب سن کر بادشاہ جہانگیر شہزادہ شاہجہاں کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ بیٹا آپ بھی کچھ بولیں۔ اگر آپ کو اس ملک کی سلطنت دی جائے تو آپ اس طرح اس ملک کی خدمت کریں گے؟ 
شہزادہ شہنشاہ جہانگیر نے فورا جواب دیا کہ میں اپنے ملک کی خدمت اور حفاظت ایک ماں کی طرح نہیں بلکہ ایک محبوب کی طرح کروں گا۔ یہ سب سن کر بادشاہ اور ملکہ حیران رہ گئے۔ شاہجہان نے مزید کہا کہ ماں کے ساتھ محبت وقت ایک لازمی جز ہے۔ ہر بچہ اپنی ماں سے اور ہر ماں اپنے بچے سے محبت لازمی کرتی ہے۔ لیکن میں اپنے ملک کے ساتھ محبت ایسے کروں گا جیسے وہ میرا محبوب ہے۔ تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں کہ دنیا میں ماں کے ساتھ پیار سب کرتے ہیں لیکن آج تک کسی نے اپنی ماں کی لئے جان نہیں دی۔ صرف محبوب ہی ایک ایسا رشتہ ہے جس کے لیے  لوگ جان دیتے بھی ہیں اور جان لیتے بھی ہیں۔ اگر مجھ کو سلطنت میں  ملی تو میں اس کو اپنے محبوب کی طرح چاہوں گا اور اس کے لیے اگر مجھے جان دینی بھی پڑی تو میں دوں گا اگر جان لینی پڑی تو میں لونگا۔ 
یہ سب سن کر بادشاہ نے ملکہ کی طرف دیکھا اور ملکہ نے شرم کے مارے اپنا سر نیچے جھکا لیا. جہانگیر کے مرنے کے بعد شہنشاہ کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔ شہنشاہ نے پورے تیس سال اس برصغیر پر حکومت کی۔ یہ تیس سال ہندوستان کے سب سے خوبصورت 30 سالوں میں سے ایک ہیں۔ 
ہندوستان میں پائے جانے والی آثارقدیمہ میں جو بھی عمارتیں تخلیق کی گئی وہ سب شاہجہان کے دور میں ہی بنی۔ دنیا کے سات عجوبوں میں شامل ایک عجوبہ تاج محل، اس کو شاہجہان نے بنوا یا۔ یہ اس دور کی سب سے مہنگی ترین عمارت ہے۔ اس پر اس دور میں 32 ملین ہندوستانی روپے خرچ ہوئے۔ شاہجہان نے ایران، اٹلی اور ترکی سے کاریگر منگوائے جنہوں نے تاج محل کو تعمیر کیا۔ دہلی کا لال قلعہ ہندوستان میں آج بھی قائم ہے۔ یہ ہندوستان کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ یہ سب بھی شاہجہان کے دور میں ہی تعمیر کیا گیا۔ 
 لاہور میں پائے جانے والی موتی مسجد شاہجہان  کا ہی شاہ کار ہے۔ یہ چھوٹی سی مسجد آپ کی روح کو تازہ کردے گی۔ لاہور میں پایا جانے والا شیش محل۔ شیش محل کی جگہ پر شہنشاہ نے سونے کا محل بنوایا تھا۔ لیکن ملکہ ممتاز کو جب پتہ چلا کے سونے کا محل بنوایا ہے تو انہوں نے شاہجہاں سے کہا کہ سونے کے محل سب بنواتے ہیں آپ میرے لئے تاروں کے محل بنوایں۔ تو شاہ جہاں نے اسی ٹایم آرڈر دیا اور سونے کا محل گرا دیا گیا اور اس کی جگہ پر شیش محل تعمیر کیا گیا
اگر آپ کو کبھی شیش محل جانا ہو تو شام کے وقت مشعل لے کر شیش محل پر جائیں اور تاروں کو زمین پر آتا ہوا دیکھیں۔ یہ سب شہنشاہ شاہ جہاں کا ہی کارنامہ ہے۔ مسجد وزیر آباد کو دیکھ لیں اس پر بھی شاہجہاں کا کارنامہ دکھائی دے گا۔ 
غرض ہندوستان میں پائی جانے والی تمام عمارتوں کو دیکھ لیں آپ کو ان کے پیچھے کہیں نہ کہیں شاہ جہاں کا نام لازمی نظر آئے گا۔ 
تیس سالوں میں شاہ جہاں نے ہندوستان کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اور انہوں نے واقعی ہی ملک سے ایک محبوب کی طرح محبت کی۔ اور انہوں نے ثابت کر دیا کہ اگر آپ ایک محبوب سے محبت کرتے ہیں تو اس کو اس طرح چاہیں کہ پوری دنیا یاد رکھے۔ انہوں نے اپنے والد سے جو وعدہ کیا تھا وہ کر کے دکھا دیا۔ چنانچہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپنے ملک کو وہ لوگ سنوارتے ہیں جو اس کے ساتھ محبوب کی طرح محبت کرتے ہیں۔ 
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *